مستقل درد، موڈ، سوچ اور خیالات بدل سکتا ہے

آسٹریلیا:
ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل اور دیرینہ تکلیف ہمارے احساسات اور جذبات کو یکسراندازمیں تبدیل کرسکتی ہے۔

ہماری پیشانی کے عقب میں موجود دماغی حصہ خوشی اور تکلیف کا احساس دلاتا ہے۔ لیکن یہی درد جب سوہانِ روح بن کر برقرار رہے تو اس سے ہماری بے چینی بڑھتی ہے ، ہم ڈپریشن کے شکار ہوسکتے ہیں اور خود ہماری شخصیت کے کئی پہلو بدلنے لگتے ہیں۔

نیورولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آسٹریلیا کی پروفیسر سلیویا گسٹِن کے مطابق ’ درد بڑھتا رہے اور مسلسل ہو تو ہمارے جذبات اور احساسات تبدیل ہونے لگتے ہیں۔‘ اس ضمن میں انہوں نے بہت دلچسپ تحقیق کی ہے ۔ انہوں نے مسلسل تکلیف جھیلنے والے اور اس سے محفوظ رضاکاروں کے دماغ کو دیکھا ہے اور نوٹ کیا ہے کہ درد آخر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک خاص کیمیکل ’گیما امائنو بیوٹائرک ایسڈ‘ یا گابا، پورے اعصابی نظام میں سگنل کے نظام پر نظر رکھتا ہے۔اس کا دوسرا کام یہ ہوتا ہے کہ یہ ہمارے جذبات اور احساسات کو قابو میں رکھتے ہوئے ہمیں تناؤ کا شکار نہیں ہونے دیتا۔

لیکن یہ نئی تحقیق پہلی مرتبہ بتاتی ہے کہ کس طرح دیرینہ تکلیف گابا کیمیکل کی پیداوار متاثر کرکے ان کے احساسات کو تبدیل کردیتی ہے۔ اس کے ثبوت چوہوں کے تجربات سے بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ انہیں درد دیا گیا تو کیمیکل کی پیداوار کم ہوئی لیکن انسانوں میں پہلی مرتبہ یہ ثبوت سامنے آئے ہیں۔

جب 48 رضاکاروں کو دیکھا گیا تو وہ درد سہہ رہے تھے اور یوں ان کے دماغ میں گابا کی پیداوار میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔ اس سے دماغ کے ان حصوں پر اثر پڑتا ہے جو جذبات اور احساسات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ کیفیت بڑھ کر مستقل طور پر مزاج کا حصہ بن سکتی ہے اور تکلیف میں مبتلا کسی شخص کے مزاج کو طویل عرصے کے لیے تبدیل کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مفرور کچھوے نے پولیس کو چکرا کر رکھ دیا

اوریگون: امریکی پولیس نے ٹوئٹر پر عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک پالتو …