پی ڈی ایم اپنے موقف پر قائم، ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار قبول نہیں،مولانا فضل الرحمان

جمعیت علماءاسلام (ف) کے قائد اور پاکستا ن ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم )کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم اپنے موقف پر قائم ہے ، سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کسی بھی قسم کا کردار قبول نہیں،29جولائی کو کراچی اور 4جولائی کو سوات میں بڑ اجلسہ کریں گے۔ایک مدر پدر آزاد معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، ملک کو آئین کی پٹڑ ی پر واپس لانے کے لئے جدوجہد کریں گے، نااہل لوگوں کو بٹھا کر پارلیمنٹ کی بے توقیری کی گئی،ہلڑ بازی کا سلسلہ اب بلوچستان اسمبلی تک پہنچ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے آل پارٹی کانفرس کا مشورہ دیا ہے جس کی ہم تائید کرتے ہیںمگر اس میں بنیاد ی نقطہ یہی ہونا چاہئے کہ انتخابی عمل میں جاسوسی ادارے کسی قسم کی مداخلت نہ کریں۔فاٹا سے پرامن نظام ختم کردیا گیا اور نئے نظام کا تجربہ بھی ناکام نظر آرہا ہے ، دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، اور قابل افسوس بات ہے کہ اس قسم کے حالات ریاست اور اداروں کی ناک کے نیچے پیدا ہورہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دس سال تک ایک ہزار ارب روپے فاٹا کو دیا جائے گا تاکہ وہاں ترقیاتی کام ہوںاور لوگوں کی زندگی کے معیار کو بلند کیا جائے آج تک انہیں ایک پیسہ نہیں دیا گیا اور اس بجٹ میں بھی نمائشی فنڈز رکھے گئے ہیں۔ ہمار ا بجٹ زیرو سے نیچے کیوں گیا، کورونا کی طرح مہنگائی کا بھی ایک پہاڑ گرنے والا ہے، اس حکومت کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز برقرار نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کا پر امن حل چاہتے ہیں اس حوالے سے جو پیش رفت ہوئی ہے اس پر عمل درآمد کرناچاہئے، اگر اسے موخر کرنا ہے تو اس کی وجوہات سامنے لائی جائیں تا کہ ان پر غور کیا جائے ۔ آج تک افغانستان جنگ کی آ گ میں جل رہا ہے، پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرے ، ہمارے دشمن تو افغانستان میں موجود ہیں ہمارا وہاں کوئی موثر کردار نہیں ہے، اس طر ح کی دھاندلی زدہ حکومتیں ایسے مسئلے حل نہیں کرسکتی،ہم قوم کو کشمیریوں اورفلسطینیوں کو کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

مفرور کچھوے نے پولیس کو چکرا کر رکھ دیا

اوریگون: امریکی پولیس نے ٹوئٹر پر عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک پالتو …