تبدیلی سرکار کو بڑا جھٹکا ، بی این پی مینگل حکومتی اتحاد سے علیحدہ، کیا عمران خان کی کرسی خطرے میں ہے …….

اسلام آباد (وقت ٹی وی آن لائن ) بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ کیے گئے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ میں آج ایوان میں پی ٹی آئی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایوان میں موجود رہیں گے اور اپنی بات کرتے رہیں گے، ہم نے 2 سال تک اس تحریک انصاف کے ساتھ معاہدے پرعملدرآمد کا انتظار کیا ہے، مزید بھی کرنے کو تیار ہیں لیکن کچھ شروع تو کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک لڑکی جس کا بھائی لاپتا تھا اس کے بازیابی کےلیے وہ چارسال لڑتی رہی، اس لڑکی نے دو دن پہلے خود کشی کر لی،اس کی ایف آئی آرکس کے خلاف کاٹی جانی چاہیے؟

اختر منگل نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، خدا کے لیے بلوچستان کو ساتھ لےکر چلنا چاہتےہیں تو ان معاہدوں پرعمل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہاتھ ملایا آپ کے ساتھ، گلہ نہیں کر رہے، صدر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین سینیٹ سمیت ہر موقع پر ووٹ دیا، اپوزیشن اور حکومتی بیچز کی طرف سے الزام لگایا گیا کہ 10 ارب میں ہم بک گئے؟

انہوں نے کہا کہ آپ کا ایک ایک بال بلوچستان کا قرض دار نکلے گا بلوچستان آپ کا قرض دار نہیں ہو گا۔

بی این پی کے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ دو معاہدے ہوئے، 8 اگست 2018 کو پہلا معاہدہ ہوا، شاہ محمود، جہانگیرترین اور یارمحمد رند کے دستخط کیے، ہم بنی گالہ نہیں گئے بلکہ وہ کوئٹہ آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ لا پتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے اور نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرنےکا مطالبہ کیا تھا، ان دونوں معاہدوں میں کوئی بتادےکہ کوئی بھی ایک غیر آئینی مطالبہ ہے؟

اختر مینگل نے کہا کہ کیوں آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ؟ یہ مائنڈ سیٹ ہے جو 1948 سے چلا آ رہا ہے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں بی این پی مینگل کے چار ارکان ہیں جب کہ بی این پی مینگل کا سینیٹ میں ایک رکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اپوزیشن نے آئینی ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لئے کمیٹی بنا دی

اسلام آباد: اپوزیشن نے آئینی ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لئے کمیٹی …